تازہ ترین

سزائے موت کے قیدی کی جان کیسے نکلتی ہے، کونسا رسہ استعمال کیاجاتا ہے، رسہ ٹوٹنے پر کیا قیدی کو چھوڑ دیا جاتا ہے، جلاد کو ڈاکٹر سے پہلے کیسے موت کا وقت پتہ چل جاتا ہے، سنسنی خیز انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب میں جلاد کو ایک پھانسی کے ڈھائی ہزار روپے دئیے جاتے ہیں، تنخواہ 18ہزار ہے، ملک کی تمام جیلوں کیلئے صرف تین جلاد، تعلق تارا مسیح کے خاندان سے ہے، تین سال میں 465ملزمان کو پھانسی دی گئی، پھندا ڈالنے کی تکنیک خاندانی سطح پر سکھائی جاتی ہے، پھانسی کیلئے استعمال ہونیوالا رسہ دس وہیلر ٹرالے کو بھی کھینچنے کے کام آتا ہےجو بعض اوقات ٹوٹ بھی جاتی ہے۔
جلادوں کی کمی کے سبب خلاف آئین جیل ملازم بھی پھانسی دے دیتا ہے، پاکستان کے موقر قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق قومی اخبار کی

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے والے جلاد تارا مسیح کا خاندان پنجاب میں سزائے موت کے مجرموں کو پھانسی دیتا ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں پھانسی دینے والے جلاد کو ایک پھانسی کے عوض ڈھائی ہزار روپے ادا کئے جاتے ہیں ۔ یہ رقم اسے جیل میں تعینات چیف چیکر دیتا ہے۔ پاکستان میں دسمبر 2014کو جب پھانسی کی سزا بحال کی گئی تو اس وقت سے لے کر جولائی 2017تک 465مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تمام پھانسی پنجاب کے صرف تین جلادوں نے دیں جو اس وقت بھی جیل پولیس کے ملازم ہیں۔ ان کے بارے میں عوام لوگوں کو معلوم نہیں کہ ان کو حتی الوسع خفیہ رکھا جاتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ان کی ملازمت گریڈ 4کی ہوتی ہے جس کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ 18ہزار سے شروع ہوتی ہے اور یہ کہ یہ تینوں جلاد مختلف جیلوں میں پھانسی دینے کیلئے جاتے ہیں۔ ایک جیل ملازم نے انکشاف کیا ہے کہ جس تیزی سے پھانسیاں دی جا رہی ہیں اس کے مقابلے میں تین جلاد ناکافی ہیں۔ بعض اوقات جلادوں کی کمی کی وجہ سے جیل پولیس کے ملازم بھی پھانسی دےدیتے ہیں جو کہ خلاف آئین ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان جلادوں کو انتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے مگر ایک جیل ملازم کی وساطت سے اخبار کے رپورٹر نے ایک جلاد سے ملاقات بھی کی ہے ۔ رپورٹ میں جلاد کی تعیناتی کے حوالے سے معیار بارے انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جلاد کیلئے ضروری ہے کہ وہ مسلمان نہ ہواور یہ بات اسی جلاد نے اخباری رپورٹر کو بتائی ہے ۔ جلاد کے مطابق
پاکستان کی تاریخ میں تمام مسیحی جلاد ہی تعینات کئے جاتے رہے ہیں۔ پنجاب بھر میں جلادوں کا ایک ہی خاندان ہے جو تارا مسیح کا ہے اور یہ وہی تارا مسیح ہے جس نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تھی اور قیام پاکستان سے قبل اس کے باپ نے معروف حریت پسند بھگت سنگھ کو پھانسی پر لٹکایا تھا۔ جلاد کا کہنا تھا کہ اس کا بھی تعلق تارا مسیح کے خاندان سے ہے۔
جلاد کا کہنا تھا کہ پھانسی دینا ایک ٹیکنیکل کام ہے اور اس کی تکنیک سیکھی جاتی ہے، پھانسی دینے والے شخص کو رسہ کہاں ڈالنا ہے اور اس کی گانٹھ کہا ہونی چاہئے یہ سب کچھ ہمیں سکھایا جاتا ہے لیکن یہ حکومت سطح پر نہیں بلکہ خاندانی سطح پر سکھایا جاتا ہے۔ جلاد نے پھانسی دینے کی تکنیک بتاتے ہوئے کہا کہ رستے کو ایسے طریقے سے مجرم کے گلے میں پھنسایا جاتا ہے کہ اس کی گانٹھ دائیں کان کے نیچے
نرم جگہ پر لگی رہے، ایسی صورت میں گردن کا منکا ٹوٹ جاتا ہے اور قیدی کی جان جلدی اور آسانی سے نکل جاتی ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو منکا نہیں ٹوٹتا اور عموماََ قیدی کا صرف سانس بند ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ کافی دیر پھڑکتا اور اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔ بعض اوقات رسہ درست نہ لگایا جائے تو قیدی کی گردن کٹ جاتی ہے اور خون رسنا شروع ہو جاتا ہے ، عموماََ شہ رگ کٹ جاتی ہے اس لئے
جلاد کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اس بات کا خاص خیال رکھے کہ رستہ درست پہنایا جائے۔ جلاد کے پاس پھانسی دینے والے شخص کیلئے آدھا منٹ سے بھی کم وقت ہوتا ہے اس میں وہ قیدی کے سر پر ٹوپی(ماسک )چڑھاتا ہے اور اس کے بعد گلے میں رسہ ڈال کر لیور کھینچنا شامل ہے۔ ایک پھانسی پانے والے مجرم کیلئے ضروری ہے کہ اسے 25منٹ تک لٹکایا جائےلیکن جلاد کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کی جان کب نکلی ۔
کہا جاتا ہے کہ پھانسی پانے والے مجرم کے مرنے کی نشانی یہ ہوتی ہے ہے کہ اس کے ہاتھ کالے ہو جاتے ہیں لیکن یہ بات درست نہیں ، پھانسی صبح صادق کے وقت پو پھوٹنے سے قبل دی جاتی ہے۔ پھانسی دینے کے بعد رسہ جھول رہا ہوتا ہے جیسے ہی رسہ ساکن ہوتا ہے جلاد کو پتہ چل جاتا ہے کہ قیدی کی جان نکل چکی ہے۔ پھانسی کے بعد ڈاکٹر تصدیق کرتا ہے اور سب سے پہلے قیدی کے ٹخنے پر زور لگاتا ہے پھر اس کے بعد نیچے اتار کر تسلی سے اس کا چیک اپ کرتا ہے کہ کہیں جانی باقی تو نہیں مگر جلاد اپنے تجربے کی
بنیاد پر دیکھ لیتا ہے کہ قیدی کی جان کس وقت نکلی ۔ بعض قیدیوں کی جان جلدی نکل جاتی ہے اور بعض کی بہت مشکل سے نکلتی ہے۔ جلاد کا کہنا تھا کہ پھانسی کے رسے کے ساتھ ایک فالتو رسہ بھی لٹکایا جاتا ہے کیونکہ جج اپنے فیصلے میں لکھتے ہیں کہ اس وقت تک لٹکائو جب تک جان نہ نکلے ، یہ بات بالکل غلط ہے کہ رسہ ٹوٹنے پر قیدی کو چھوڑ دیا جاتا ہے، رسہ چاہے 4بار ہی کیوں نہ ٹوٹے جان ضرور نکالی جاتی ہے۔ ویسے تو رسہ ٹوٹنا ناممکن ہوتا ہے کیونکہ یہ وہ رسہ ہوتا ہے جس سے دس وہیلر ٹرک کھینچا جاتا ہے۔

موضوعات:

loading…



اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*