تازہ ترین

جج کی مبینہ ویڈیو،فیصلہ ہم نہیں بلکہ کون کرے گا؟وزیراعظم عمران خان نے بڑا اعلان کردیا

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ عدلیہ کو جج کی مبینہ ویڈیو کا نوٹس لینا چاہیے،(ن) لیگ ماضی میں بھی عدلیہ پردباؤ ڈالتی رہی ہے، نیا پاکستان ہے، اب ایسا نہیں چلے گاعدلیہ وڈیو لیک کا نوٹس لے، جو فیصلہ کرے حکومت مکمل سہولت دیگی۔پیر کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں ملکی موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی وقار اور قومی اداروں پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے،
اداروں کو متنازع

بنانے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہاکہ اداروں کے خلاف بیانات کا بھرپورجواب دیاجائے۔ عمران خان نے کہاکہ اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ(ن) لیگ ماضی میں بھی عدلیہ پردباؤ ڈالتی رہی ہے، نیا پاکستان ہے، اب ایسا نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا کوئی حربہ کارگرثابت نہیں ہوسکے گا۔عمران خان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا۔جج کی مبینہ ویڈیو پرعمران خان نے کہاکہ عدلیہ آزاد اور خود مختار ہے،عدلیہ کومبینہ ویڈیو کا نوٹس لینا چاہیے۔وزیراعظم نے کہاکہ اپوزیشن حکومتی اقدامات پر اعتراضات اٹھا سکتی ہے اس لیے معاملہ عدلیہ پر چھوڑنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ مبینہ ویڈیو کا فارنزک آڈٹ ضروری ہے، چاہتے ہیں عدلیہ حکم دے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ عدلیہ وڈیو لیک کا نوٹس لے، جو فیصلہ کرے حکومت مکمل سہولت دے گی۔دریں اثناء وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہاہے کہ جج ویڈیو اسکینڈل کی اعلیٰ عدلیہ خود تحقیقات کرے، حکومت تحقیقات کرے گی تو اپوزیشن اعتراض کریگی،جج سے متعلق ویڈیو کا فورنزک ہونا چاہیے،شریف خاندان کے خلاف مزید دستاویزی ثبوت سامنے لے کرآئیں گے۔پیر کو وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ ویڈیو کو پیش کرنے والا شخص سزا یافتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جج سے متعلق ویڈیو کا فورنزک ہونا چاہیے، عدلیہ اس معاملے کی تحقیقات کرے، ویڈیو کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کو ویڈیو کی تحقیقات کرنی چاہیے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت نے ویڈیو کی تحقیقات کی تو ہم پر الزامات لگیں گے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ شریف خاندان کے خلاف مزید دستاویزی ثبوت سامنے لے کرآئیں گے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ پر حملہ کس نے کیا تھا، وہ کون لوگ تھے جو جج کو فون پر فیصلے لکھوا رہے تھے،
سپریم کورٹ نے ان لوگوں کو سیسلین مافیا ڈکلیر کیا۔شہزاد اکبر نے کہاکہ گزشتہ کئی روز سے اپوزیشن جماعتوں کے گروہ نے ایک پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کوئی ہم آہنگی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ جماعتیں صرف ایک ایجنڈے کی وجہ سے اکٹھی ہیں وہ صرف کرپشن اور لوٹ مار ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو قرضے کے گہرے کوئیں میں چھوڑ گئے ہیں،اب بیرونی قرضہ ادا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کا ایک ہی ایجنڈا بلا امتیاز احتساب کے عمل کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 90 اور 80 کی دہائی کی سیاست میں یہ کیا کرتے رہے ہیں،
چھنگا مانگا کی سیاست نے اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پانامہ کیس سامنے آنے کے بعد کس جماعت زیادہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دس سالوں میں ایک دوسرے کو این آر او دیتے رہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب ان کی وجہ سے ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ ترقی یافتہ ممالک میں مجرم کو نہیں چھوڑا جاتا،ماضی میں عدالتوں اور اداروں پر حملے کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی کو دیکھتے ہوئے ان حالات کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی ٹی مافیہ سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک روپے کی کرپشن نہیں کی،ہم نہیں گھبرائیں گے، کرپشن مافیہ کو نہیں چھوڑیں گے۔پریس کانفرنس میں موجود وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ نواز شریف کا بھی ہاتھ صاف ہے،
زرداری کا بھی ہاتھ صاف ہے اور ملک کا خزانہ بھی صاف ہے، یہ کتنی عجیب بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو لوٹنے والوں کا احتساب ہوگا۔مراد سعید نے الزام لگایا کہ احسن اقبال کے بھائی کو پنجاب ہارٹی کلچرٹاسک فورس کا چیئرمین لگادیا گیا، شہبازشریف نے کمال مصطفیٰ کو پراجیکٹ دیا، جو احسن اقبال کا بھائی ہے۔مراد سعید نے کہاکہ شہبازشریف نے 2008 میں کمال مصطفی کو چیف منسٹر ٹاسک فورس کا چیئرمین تعینات کیا، اس کے بعد کمال مصطفی کو ٹھیکے دئیے گئے، ہم نے نیب کو یہ کیس بھیج دیا ہے اور اس نے ٹیک اپ کر لیا ہے۔مراد سعید نے کہاکہ نوازشریف جیل گئے تو وزیر اعظم کی گاڑی ان کی صاحبزادی استعمال کرتی رہی، وزیراعظم کی گاڑی رائیونڈ سے برآمد کی گئی،
شریف خاندان کو مفت خوری کی عادت پڑگئی ہے۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہاکہ عمران خان کہتا تھا کہ یہ نورا کشتی بنے ہوئے ہیں،نواز شریف اور زرداری کے گٹھ جوڑ نے قومی خزانے کو لوٹا۔ انہوں نے کہاکہ احسن اقبال بڑے ارسطو بنے پھرتے ہیں، جمہوریت کی باتیں کرتے ہیں،احسن اقبال سے میں سوال کئے تھے، ابھی تک جواب نہیں دیا۔انہوں نے کہاکہ آپ کے خلاف کیس کھولتا ہے تو آپ ریکارڈ جلا دیتے تھے،اب ہم ریکارڈ کا خود تحفظ کر رہے ہیں، اور نیب کو فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ ہاؤس شہباز شریف کے 5 گھر چلاتا تھا، این ایچ اے میں اب تک 788 کروڑ کی ریکوری کی ہے، رائیونڈ کو بھی وزیر اعلیٰ ہاؤس  بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ 34 کروڑ ملکی خزانے سے نکالے گئے کہ بیرون ملک علاج کیلئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک ترقی کر رہا ہے، پیسہ عوام پر خرچ کیا جائے گا۔

موضوعات:

loading…





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*